بھٹکل:25/ جولائی(ایس او نیوز)سرکاری ٹرانسپورٹ ملازمین کے ریاست گیر احتجاج سے پیر کو بھٹکل میں بسوں کی نقل وحمل پوری طرح ٹھپ رہی۔ ہمیشہ عوام کی آمد ورفت اور شور شرابے سے گونجنے والے بس اسٹانڈ میں سناٹا چھایا ہوا تھا ، بند کی اطلاع نہ ہونے سے بس اسٹانڈ پہنچے دیہی علاقوں کے لوگوں کو جب کوئی راہ نہ دکھائی دی تو اُنہیں قومی شاہراہ کارخ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
اُترکنڑا کے ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے اتوار شام کو اعلان کیا تھا کہ پیر کو تمام اسکولس اور کالجس بند رہیں گے، ان کے اعلان کے ساتھ ہی بھٹکل میں انجمن اسکولس اور کالجس سمیت دیگرقومی و ملی اسکولوں نے بھی چھٹی کا اعلان کیا جس کی اطلاع ساحل آن لائن وہاٹس ایپ گروپس کے ذریعے عوام تک پہنچائی گئی تھی اس کے نتیجے میں طلبا وطالبات نے اسکولوں اور کالجوں کا رُخ نہیں کیا۔ البتہ غیر مسلم طلبا وطالبات پیر کو چھٹی کے اعلان میں پیچیدگی ہونےسے اسکول اور کالجوں کو پہنچ کر چھٹی کی تصدیق کرنےکے بعد ہی گھر وں کی طرف نکلتے ہوئے دیکھے گئے۔
تعلقہ کے ہاڈولی ، منڈلی، الویکوڑی ، اترکوپا، بائیلوروغیرہ دیہاتوںکے طلبا و طالبات اور عوام سرکاری بسوں پر ہی منحصر ہونے سے انہیں کافی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگ اپنے کاموں کو خود چھٹی دے کر گھروں میں وقت گزارا توضروری کام اور مجبوری کے دباؤ میں زیادہ تر لوگ اور روزانہ بسوں سے آنے جانے والے دیگر محکمہ جات کے سرکاری ملازمین ٹمپو کو متبادل کے طورپر استعمال کیا۔ سرکاری سطح پر بھٹکل ہوناور بس کی شروعات سےخالی خالی رہنے والی ٹمپو ز نے خوب کمائی کی۔ علاج کے لئےکنداپور۔ منگلورو اسپتالوں کو جانے والوں کے لئے پڑوسی اضلاع کے نجی بسیں سہارا بنے۔ ایک کے بعد ایک بسوں کی بھرمار نے زبردست کمائی کی۔ دور دراز مقامات سے مرڈیشور وغیرہ کی سیاحت کے لئے پہنچے لوگ لوٹنے کے لئے سواریاں نہ ہونے سے پریشانی میں مبتلا نظر آئے لیکن مقامی سطح پر نجی بسوں اور ٹمپو کی وجہ سےکچھ زیادہ پریشانی جھیلنی نہیں پڑی۔ بھٹکل سے کمٹہ ، سرسی ، کاروار کا سفر کرنےو الے اور ادھر سے بھٹکل پہنچنے والے اکثر مسافروں نے ریل کو ترجیح دی۔ خاص بات یہ رہی کہ کنداپور، اُڈپی ، منگلورو وغیرہ میں ملازمت کرنے والےہوناور، کمٹہ ، انکولہ کے ملازمین نے ریل کے سفرکالطف لیا۔ کنداپور ریلوے اسٹیشن پر کنور ریل پرسوار کچھ ملازمین بیندور ہوتے ہوئے بھٹکل پہنچے تو ریلوے عملے کے ذریعے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے دیکھا گیا ۔ مسافروں نے کہا کہ ہم لو گ کبھی کبھارر یل کا سفر کرتے ہیں۔ اور آج بس سروس نہ ہونےسے ریل کا سفرکرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری بسوں میں جو معلومات فراہم کی جاتی ہیں وہ ریل میں نہیں دی جاتی۔ ہم لوگ کاروار جانے کے لئے کنداپور سے ٹکٹ خریداتھا، صحیح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بھٹکل میں اترگئے ہیں۔ بعد میں یہ مسافر دوسری ٹرین کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھا۔ احتجاج اور بند کو دیکھتے ہوئے بھٹکل بس اسٹانڈ پر محکمہ پولس کی طرف سے بندوبست کیا گیا تھا۔
ڈی سی کی جانب سے کل منگل کو بھی چھٹی کا اعلان: اُترکنڑا ڈپٹی کمشنر ایس ایس نکول نے آج پیر شام کو اعلان کیا کہ بسوں کے اسٹرائیک کو دیکھتے ہوئے کل منگل کو بھی تمام تعلیمی اداروں میں چھٹی رہے گی، مگر دوسری طرف بھٹکل کے قومی اداروں نے کل منگل کو اسکولوں اور کالجوں میں چھٹی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انجمن کے صدر جناب عبدالرحیم جوکاکو نے ساحل آن لائن سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بسوں کے ریاست گیر سطح پر ہونے والے احتجاج کا بھٹکل میں کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے، جس کی بنا پر کل منگل کو انجمن کے تمام تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے۔ دیگر قومی و ملی تعلیمی اداروں سے بھی کل منگل کو چھٹی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے، اس بنائ پر کل تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے، البتہ ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر سرکاری اسکولوں اور کالج میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔